Breaking

Monday, 1 April 2019

حضور ﷺ کا خواب جنت جہنم کا سیر

                      حضور ﷺ کا خواب جنت جہنم کا سیر


جناب رسول اللّٰہ ﷺ کی عادت شریف تھی کہ فجر کی نماز پڑھ کر اپنے یارو اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے رات کو کسی نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا ؛ اگر کوئی دیکھتا عرض کر دیا کرتا تھا - آپ کچھ تعبیر ارشاد فرما دیا کرتے تھے -
عادت کے موافق ایک بار سب سے پوچھا کہ کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے - سب نے عرض کیا کہ کوئی نہیں دیکھا - آپ نے فرمایا کہ میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے کہ دو شخص میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ کو ایک زمین مقدس کی طرف لے چلے - دیکھتا کیا ہوں کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اور دوسرا کھڑا ہے اور  اُس کے ہاتھ میں لوہے کا زنبور ہے - اُس بیٹھے ہو ئے کے کَلّے کو اُس سے چیر رہا ہے یہاں تک کہ گدّی تک جا پہنچتا ہے - پھر دوسرے کلّے کے ساتھ بھی یہی معاملہ کر رہا ہے اور پھر وہ کلّا اُس کا درست ہو جاتا ہے - پھر اُس کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے - میں نے پوچھا یہ کیا بات ہے وہ دونوں بولے آگے چلو - ہم آگے چلے یہاں تک کہ ایک ایسے شخص پر گذر ہوا جو لیٹا ہوا ہے اور اُس کے سر پر ایک شخص ہاتھ میں بڑا بھاری پتھر لئے کھڑا ہے - اس سے اُس کا سر نہایت زور سے پھوڑتا ہے - جب وہ پتھر اُس کے سر دے مارتا ہے پتھر لڑھک کر دور جا گرتا ہے - جب وہ اس کے اٹھانے کے لئے جاتا ہے تو اب تک لوٹ کر اُس کے پاس نہیں آنے پاتا کہ اُس کا سر پھر اچھا خاصا جیسا تھا ویسا ہی ہو جاتا ہے - اور وہ اس کو اسی طرح پھوڑتا ہے - میں نے پوچھا یہ کیا ہے - وہ دونوں بولے آگے چلو - ہم آگے چلے - یہاں تک کہ ہم ایک غار پر پہنچے جو مثل تنور کے تھا نیچے سے فراخ تھا اور اوپر سے تنگ- اُس میں آگ جل رہی ہے


اور اس میں بہت سے ننگے مرد اور عورت بھرے ہوئے ہیں جس وقت آگ اوپر کو اٹھتی ہے اُس کے ساتھ سب اُٹھ آتے ہیں یہاں تک کہ قریب نکلنے کے ہو جاتے ہیں - پھر جس وقت بیٹھتی ہے وہ بھی نیچے چلے جاتے ہیں - میں نے پوچھا یہ کیا ہے وہ دونوں بولے آگے چلو - ہم آگے چلے _ یہاں تک کہ ایک خون کی نہر پر پہنچے - اس کے بیچ میں ایک شخص کھڑا ہے اور نہر کے کنارے پر ایک شخص کھڑا ہے اور اُس کے سامنے بہت سے پتھر پڑے ہیں -

 وہ نہر کے اندر والا شخص نہر کےکنارے کی طرف آتا ہے جس وقت وہ نکلنا چاہتا ہے کنارا والا اُس شخص کے منہ پر ایک پتھر اس زور سے مارتا ہے کہ پھر اپنی پہلی جگہ جا پہنچتا ہے - پھر جب کبھی وہ نکلنا چاہتا ہے اُسی طرح پتھر مار کر اسکو ہٹا دیتا ہے - میں نے پوچھا یہ کیا ہے - وہ دونوں بولے آگے چلو - ہم آگے چلے یہاں تک کہ ایک ہرے بھرے باغ میں پہنچے - اس میں ایک بڑا درخت ہے اور اُس کے نیچے ایک بوڑھا آدمی اور بہت سے بچّے بیٹھے ہیں اور درخت کے قریب ایک اور شخص بیٹھا ہوا ہے اس کے سامنے آگ جل رہی ہے وہ اُس کو دھونک رہا ہے - پھر وہ دونوں مجھکو چڑھا کر درخت کے اوپر لے گئے اور ایک گھر درخت کے بیچ میں نہایت عمدہ بن رہا تھا اُس میں لے گئے میں نے ایسا گھر کبھی نہیں دیکھا -

اُس میں مرد بوڑھے جوان عورتیں بچّے بہت سے تھے - پھر اُس سے باہر لا کر اور اوپر لے گئے - وہاں ایک گھر پہلے گھر سے بھی عمدہ تھا اس میں لے گئے - اس میں بوڑھے اور جوان تھے -
میں نے اُن دونوں شخصوں سے کہا کہ تم نے مجھکو تمام رات پھرایا اب بتاؤ کہ یہ سب کیا اسرار تھے -
انہوں نے کہا کہ وہ شخص جو تم نے دیکھا تھا کہ اُس کے کلّے چیرے جاتے تھے وہ شخص جھوٹا ہے کہ جھوٹی باتیں کہا کرتا تھا اور وہ باتیں تمام جہان میں مشہور ہو جاتی تھیں اسکے ساتھ قیامت تک یوں ہی کرتے رہیں گے - اور جس کا سر پھوڑتے ہوئے دیکھا - وہ وہ شخص ہے کہ اللّٰہ تعالٰے نے اُس کو علمِ قرآن دیا - رات کو اس سے غافل ہو کر سو رہا اور دن کو اِس پر عمل نہ کیا - قیامت تک اُس کے ساتھ یہی معاملہ رہےگا - اور جن کو تم نے آگ کے غار میں دیکھا وہ زنا کرنے والے لوگ ہیں - اور جس کو خون کی نہر میں دیکھا وہ سود کھانے والا ہے اور درخت کے نیچے جو بوڑھے شخص تھے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں - ارو اُن کے گرداگرد جو بچے دیکھے وہ لوگوں کی نابالغ اولاد ہے اور جو آگ دھونک رہا تھا وہ مالک داروغہ دوزخ کا ہے - اور پہلا گھر جس میں آپ داخل ہوئے وہ عام مسلمانوں کا ہے اور یہ دوسرا گھر شہیدوں کا ہے - اور میں جبرئیل ہوں اور یہ میکائیل ہیں - پھر بولے سر اوپر اٹھاؤ - میں نے سر اٹھایا تو میرے اوپر ایک سفید بادل نظر آیا - بولے کہ یہ تمہارا گھر ہے میں نے کہا مجھکو چھوڑو میں اپنے گھر میں داخل ہوں - بولے ابھی تمہاری عمر باقی ہے پوری نہیں ہوئی - اگر پوری ہوچکتی تو ابھی چلے جاتے -

فائدہ - جاننا چاہیئے کہ خواب انبیاء کا وحی ہوتا ہے - یہ تمام واقعے سچے ہیں - اِس حدیث سے کئی چیزوں کا حال معلوم ہوا - اوّل جھوٹ کا کہ کیسی سخت سزا ہے - دوسرے عالم بے عمل کا - تیسرے زنا کا - اور چوتھے سود کا  - خدا سب مسلمانوں کو ان کاموں سے محفوظ رکھے -

No comments:

Post a Comment